ایک خاتون کے واٹس ایپ میسج کے علاوہ آپ کے پاس کیا ہے؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

May 21, 2024 | 20:04:PM
ایک خاتون کے واٹس ایپ میسج کے علاوہ آپ کے پاس کیا ہے؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احتشام کیانی) بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب ہو گئے؟ ایک خاتون کے واٹس ایپ میسج کے علاوہ آپ کے پاس کیا ہے؟ کیا امریکہ نے ویزے بند کر دیئے، طلبہ کے داخلے بند کر دیئے یا تجارت بند کر دی، ایسا کچھ ہے؟

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپیلوں پر سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیں: ’’پوچھ پوچھ کر تھک گئے ہیں اَس بند لفافے میں تھا کیا‘‘

دورانِ سماعت چیف جسٹس عامر فاروق نے پراسیکیوٹر ایف آئی اے حامد علی شاہ سے استفسار کیا کہ بلاواسطہ ہی سہی، کس ملک کو سائفر کا فائدہ ہوا؟ اگر سارے کہہ دیں کہ رات ہو گئی تو رات تو نہیں ہو جائے گی نا، اگر سب کہہ رہے ہیں کہ تعلقات خراب ہو گئے تو اس طرح تو نہیں ہو جائیں گے، کسی نے جنگ کا اعلان کر دیا اقوام متحدہ میں لے گئے کیا ہوا؟ پاکستان کے کس ملک کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے؟

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ نے ایک ملک کو ڈی مارش کر دیا اور آپ کے تعلقات خراب نہیں ہونگے؟ آپ ایک سپر پاور کو ڈی مارش کر رہے ہیں اور اوپن آرمز سے قبول کر لے گا، ڈی مارش کرنے سے آپ کے تعلقات خراب نہیں ہوئے ریلی میں کہہ دینے سے خراب ہو گئے؟

چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے استفسار پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے جواب دیا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے، ایف آئی اے پراسیکیوٹر کے جواب پر چیف جسٹس عامر فاروق نے سوال اٹھایا کہ تعلقات خراب ہونے کے کیا شواہد ہیں؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بھی استفسار کیا کہ کیا پاکستانی سفارت خانے کے سربراہ کو کیپٹل ہل میں بلایا گیا تھا؟ سفارتی تعلقات میں تو یہ پہلا قدم ہوتا ہے، کیا آپ امریکہ کی طرف سے تعلقات خراب ہونے کا بیان دے رہے ہیں؟

چیف جسٹس عامر فاروق نے کارروائی جاری رکھتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ نے کہاں ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب ہو گئے؟ ایک خاتون کے واٹس ایپ میسج کے علاوہ آپ کے پاس کیا ہے؟ کیا امریکہ نے ویزے بند کر دیئے، طلبہ کے داخلے بند کر دیئے، تجارت بند کر دی، ایسا کچھ ہے؟

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے جلسے میں دیئے بیان کی تو امریکہ نے تردید کی ہے، جس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ اس حوالے سے پورے دنیا کے میڈیا میں جو رپورٹ ہوا وہ بھی ریکارڈ پر موجود ہے، پراسیکیوٹر کے جواب پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو ان کے مخالفین کے بیانات ہیں، رانا ثناء اللہ کا بھی بیان ہے، یہ تو سیاسی بیانات کی رپورٹنگ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے ذاتی فائدے کیلئے سائفر کے متن میں ہیرا پھیری کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر کا دعویٰ

فاضل جج کے ریمارکس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے مکالمہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ غیر جانبدار میڈیا کی بھی رپورٹنگ ہے، وائس آف امریکہ، ڈی ڈبلیو  اور دیگر انٹرنیشنل میڈیا نے بھی ذکر کیا، جسٹس حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ بھارت کی طرف سے تو نہیں ہے؟ آپ نے بھارتی اخبارات کا ذکر کیا ہے، جس پر پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ آپ اس کو نظر انداز کریں۔