طالبان کابینہ میں توسیع۔کسی خاتون کو پھر جگہ نہ ملی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) طالبان نے عبوری کابینہ میں مزید 10 نئے وزرا کو شامل کیا ہے تاہم یہ وزرا مختلف وزارتوں میں نائبین کے طور پر ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
عالمی میڈیا کے مطابق طالبان نے امارت اسلامیہ افغانستان کی عبوری کابینہ میں وزارت دفاع، داخلہ، توانائی، تجارت، صحت اور قومی اولمپک کمیٹی میں 10 نائب وزرا کو شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس بار بھی خاتون کو یا کسی اور جماعت کے رکن کو کابینہ میں جگہ نہیں دی گئی۔
نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس جن 10 نئے نائب وزرا کے ناموں کا اعلان کیا ہے ان میں ڈاکٹر قلندر عباد، قائم مقام وزیر صحت، ڈاکٹر عبدالباری عمر، نائب وزیر صحت، ڈاکٹر محمد حسن غیاثی، نائب وزیر صحت، حاجی نورالدین عزیزی، قائم مقام وزیر تجارت، حاجی محمد بشیر، نائب وزیر تجارت، حاجی محمد عظیم سلطان زادہ، نائب وزیر تجارت، ملا محمد ابراہیم، نائب وزیر داخلہ، ملا عبدالقیوم ذاکر، نائب وزیر دفاع، انجینئر نذر محمد متمن، قائم مقام چیئرمین، نیشنل اولمپک کمیٹی، انجینئر مجیب الرحمان عمر، نائب وزیر توانائی شامل ہیں ۔
طالبان کابینہ میں وزرا اور نائبین کا اضافہ کر دیا گیا
— افغان اردو (@AfghanUrdu) September 21, 2021
ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس میں ناموں کا اعلان کیا pic.twitter.com/NlCSJFejVb
یاد رہے کہ اگست کے وسط میں افغانستان کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان نے 7 ستمبر کو 33 رکنی عبوری کابینہ کا اعلان کیا تھا جس میں وزیر اعظم ملا حسن اخوندزادہ جب کہ نائب وزرائے اعظم ملا عبدالغنی برادر اور عبدالسلام حنفی مقرر کیے گئے تھے۔33 رکنی عبوری کابینہ میں بھی کوئی خاتون شامل نہیں تھیں اس لئے امید کی جارہی تھی کہ عالمی دباﺅکو مدنظر رکھتے ہوئے طالبان اس بار کسی خاتون کو کابینہ میں شامل کرلیں گے تاہم ایسا نہ ہوسکا۔اسی طرح کابینہ کی توسیع میں مخلوط حکومت کے قیام کے عالمی دباﺅ کو بھی مسترد کردیا گیا اور کابینہ کے ارکان کی اکثریت قندھار اور پکتیا صوبوں سے تعلق رکھتی ہے اور زیادہ تر طالبان کے بانیان ہیں۔
یہ بھی پڑھیں۔ انگلش ٹیم کا دورہ سکیوریٹی کی وجہ سے منسوخ نہیں ہوا۔برطانوی ہائی کمشنر۔۔پھر وجہ کیا۔؟