(24نیوز) وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ سندھ میں سکول 26 نومبر سے 24 دسمبر تک ہوم بیس تعلیم دینگے، اس دوران سکولز کھلیں رہیں گے تاہم بچوں کو نہیں بلایا جائے گا۔اس سال کسی صورت بغیر امتحانات کے بچوں کو اگلی کلاسوں میں پروموٹ نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت چاروں صوبائی وزرائے تعلیم کا اجلاس ہوا جس میں کورونا کی موجودہ صورت حال میں اسکولوں کی بندش کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا مؤقف تھا ہماری تجویز ہے کہ تمام تعلیمی ادارے بند نہ کیے جائیں، اگر ایسا کرنا ہے تو پرائمری اسکولز جس میں انرولمنٹ 73 فیصد ہے اس کو بند کیا جائے۔
انہوں نے اجلاس میں تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کلاس 6 اور اس سے آگے کی تمام کلاسز کو جاری رکھا جائے جب کہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں کے امتحانات مئی اور جون میں لینے کا فیصلہ نہ کیا جائے، آگے کی صورت حال کو دیکھ کر بعد میں فیصلہ کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ جو اسکولز آن لائن تعلیم دینا چاہتے ہیں وہ آن لائن تعلیم جاری رکھیں لیکن جو والدین بچوں کو اسکول نہ بھیجنا چاہیں تو ان بچوں کے خلاف اسکول کو ایکشن نہ لینےکاپابند کیا جائے۔
صوبائی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں تمام غیر تدریسی سرگرمیاں اس سال مکمل طور پر بند کر دینی چاہئیں۔سعید غنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سال کسی صورت بغیر امتحانات کے بچوں کو اگلی کلاسز میں پروموٹ نہیں کیا جائے گا۔وزیر تعلیم سندھ نے مزید کہا کہ چھوٹے نجی اسکولز کو مالی ریلیف کے لئے بینکوں سے آسان شرائط پر قرضے دیئے جائیں، اسکولوں کے ساتھ ساتھ ہمیں ٹیوشن اور کوچنگ سینٹرز کو بھی اس میں شامل کرنا چاہئے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نجی اسکولوں کو بدحالی کا شکار ہونے سے بچانے کے لئےقرضوں پر سود وفاقی حکومت ادا کرے۔