تھرکے باسی غذائی قلت کا شکار۔۔ 80 خواتین اور 550 بچے انتقال کر گئے

Nov 27, 2021 | 09:19:AM

(مانیٹرنگ ڈیسک)محکمہ صحت کے مطابق مٹھی میں صحرائے تھر میں رواں سال اب تک 80 خواتین اور 550 بچے غذائی قلت اور بیماریوں کے باعث انتقال کرگئے، جبکہ مجموعی طور پر چھ سال کے دوران ساڑھے تین ہزار سے زائد بچے زندگی بازی ہارگئے،ان میں پانچ سو سے زائد وہ بچے بھی شامل ہیں جوقبل از پیدائش ہی انتقال کرگئے.

تفصیلات کے مطابق صحرائے تھر کے باسیوں کی خوشحالی ،تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سندھ حکومت نےاربوں روپے کے منصوبے بنائے جن میں غیرملکی فنڈنگ کے منصوبے بھی شامل ہیں،لیکن یہ منصوبے بدنظمی اور ناقص حکمت عملی کے فقدان کے باعث تھرباسیوں کی زندگی میں خوشحالی لاسکے نہ ہی ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی آسکی۔

یہ بھی پڑھیں:     عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کی نئی قسم کوکیا نام دیا۔۔۔؟

ماہرین طب کے مطابق نا مناسب غذا،خون کی کمی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ نہ ہونا خواتین اور بچوں کی اموات کا بڑا سبب ہیں۔صحرائے تھر کے پسماندہ علاقوں میں سال میں لگ بھگ پندرہ سے بیس ہزار حاملہ خواتین بچوں کو جنم دیتی ہیں لیکن پسماندہ علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولت نہ ہونے کے باعث اسپتال پہنچنے سے پہلے خواتین پہنچ نہیں پاتی حاملہ خواتین کھلے آسمان تلے صحرا میں ہی بچے کو جنم دینے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔
 یہ بھی پڑھیں: 15 سکینڈ میں زندگی ختم۔۔کورونا کی نئی قسم نہایت خطرناک

مزیدخبریں