پھل اور سبزیاں چھلکوں سمیت کھانے کےفوائد
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)امریکی محکمہ زراعت کے مطابق چھلکوں سمیت سیب کھائے جائیں تو ان سے 15 فیصد زیادہ وٹامن سی، 267 فیصد زیادہ وٹامن کے، 20 فیصد زیادہ کیلشیئم، 19 فیصد زیادہ پوٹاشیئم، اور 85 فیصد زیادہ فائبر ملتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی چھلکوں میں فلیونائڈز اور پولیفینولز جیسے اہم کیمیکلز ہوتے ہیں جو جراثیم کش خصوصیات کے ساتھ ساتھ جسم کی اندرونی صفائی میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ چھلکے پھینکنا ماحول پر بھی منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے مطابق چھوڑ دیا گیا کھانا بشمول پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے عالمی سطح پر خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسز میں 8 سے 10 فیصد کا حصہ ڈالتے ہیں۔ لینڈ فلز میں سڑ رہے کھانے سے میتھین گیس خارج ہوتی ہے جو دنیا کی سب سے خطرناک گرین ہاؤس گیس ہے۔ صرف 51 لاکھ آبادی والا ملک نیوزی لینڈ اکیلے ہر سال 13 ہزار 658 ٹن سبزیوں کے چھلکے اور 986 ٹن پھلوں کے چھلکے پھینکتا ہے۔ چھلکوں کی غذائی خصوصیات اور کچرے میں ان کے کردار کے باوجود لوگ کیوں ان کے چھلکے پھینکتے کیوں ہیں؟
کچھ کو تو چھیلنا لازم ہوتا ہے کیونکہ باہری حصے یا تو ہضم نہیں ہو سکتے، ذائقے میں اچھے نہیں ہوتے، یا نقصان پہنچا سکتے ہیں مثلاً کیلے، کینو، تربوز، خربوزے، انناس، آم، ایووکاڈو، پیاز اور لہسن کے چھلکے۔ اس کے علاوہ انھیں چھیلنا ترکیب کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔مگر کئی سبزیاں مثلاً آلو، چقندر، گاجر، کیوی اور کھیرے کے چھلکے کھائے جا سکتے ہیں مگر پھر بھی لوگ انھیں چھیل دیتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی تجویز ہے کہ روزانہ کم از کم 400 گرام پھل اور سبزیاں کھانی چاہییے مگر یہ کئی لوگوں کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ تو کیا چھلکوں سمیت پھل اور سبزیاں کھانا غذا میں اہم اجزا شامل کر کے اس مسئلے کو حل کر سکتا ہے؟ اس سے فائدہ تو لامحالہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سات سبزیوں چقندر، جنگلی سرسوں، جنگلی گاجر، شکر قندی، مولی، ادرک اور سفید آلو کے اندر کئی اہم وٹامنز بشمول وٹامن سی اور رائبو فلیون (بی 2) اور آئرن اور زنک جیسی معدنیات شامل ہوتی ہیں۔
کئی لوگ پھل اور سبزیاں استعمال کرتے وقت اُنھیں چھیل دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا ضروری نہیں۔ چھلکوں میں اہم غذائی اجزا ہوتے ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ پھلوں اور سبزیوں کے پھینک دیے گئے چھلکے ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ بھی بنتے ہیں۔ پھل اور سبزیوں میں وٹامنز، منرلز، فائبر اور کئی اہم نباتاتی کیمیکلز بشمول اینٹی آکسیڈینٹس ہوتے ہیں جو جسم کے خلیوں کا تحفظ کرتے ہیں۔ غذائیت سے بھرپور ایسے کھانے نہ کھانے کی وجہ سے کئی بیماریاں مثلاً دل کے امراض یا ٹائپ 2 ذیابیطس ہو سکتی ہے۔